EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پیڑ کا دکھ تو کوئی پوچھنے والا ہی نہ تھا
اپنی ہی آگ میں جلتا ہوا سایہ دیکھا

جمیل ملک




سب کو پھول اور کلیاں بانٹو ہم کو دو سوکھے پتے
یہ کیسے تحفے لائے ہو یہ کیا برگ فروشی ہے

جمیل ملک




اس کی خموشیوں میں نہاں کتنا شور تھا
مجھ سے سوا وہ درد کا خوگر لگا مجھے

جمیل ملک




یہ کیا ضرور ہے میں کہوں اور تو سنے
جو میرا حال ہے وہ تجھے بھی پتا تو ہے

جمیل ملک




یہ منظر یہ روپ انوکھے سب شہکار ہمارے ہیں
ہم نے اپنے خون جگر سے کیا کیا نقش ابھارے ہیں

جمیل ملک




یوں دل میں آج نور کی بارش ہوئی جمیلؔ
جیسے کوئی چراغ جلا دے بجھا ہوا

جمیل ملک




آیا یہ کون سایۂ زلف دراز میں
پیشانئ سحر کا اجالا لیے ہوئے

جمیلؔ مظہری