EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو مانگ رہے ہو وہ مرے بس میں نہیں ہے
درخواست تمہاری ہے ضرورت سے زیادہ

جمال اویسی




موت برحق ہے ایک دن لیکن
نیند راتوں کو خوب آتی ہے

جمال اویسی




دم بہ دم اٹھتی ہیں کس یاد کی لہریں دل میں
درد رہ رہ کے یہ کروٹ سی بدلتا کیا ہے

جمال پانی پتی




دیا بجھا پھر جل جائے اور رت بھی پلٹا کھائے
پھر جو ہاتھ سے جائے سمے وہ کبھی نہ لوٹ کے آئے

جمال پانی پتی




کیسے کیسے ویر سورما جگ میں جن کا مان
جگ سے جیتے سمے سے ہارے سمے بڑا بلوان

جمال پانی پتی




کیا ہو گیا گلشن کو ساکت ہے فضا کیسی
سب شاخ و شجر چپ ہیں ہلتا نہیں پتا بھی

جمال پانی پتی




موتی مونگے کنکر پتھر بچے نہ کوئی بھائی
سمے کی چکی سب کو پیسے کیا پربت کیا رائی

جمال پانی پتی