جو مانگ رہے ہو وہ مرے بس میں نہیں ہے
درخواست تمہاری ہے ضرورت سے زیادہ
جمال اویسی
موت برحق ہے ایک دن لیکن
نیند راتوں کو خوب آتی ہے
جمال اویسی
دم بہ دم اٹھتی ہیں کس یاد کی لہریں دل میں
درد رہ رہ کے یہ کروٹ سی بدلتا کیا ہے
جمال پانی پتی
دیا بجھا پھر جل جائے اور رت بھی پلٹا کھائے
پھر جو ہاتھ سے جائے سمے وہ کبھی نہ لوٹ کے آئے
جمال پانی پتی
کیسے کیسے ویر سورما جگ میں جن کا مان
جگ سے جیتے سمے سے ہارے سمے بڑا بلوان
جمال پانی پتی
کیا ہو گیا گلشن کو ساکت ہے فضا کیسی
سب شاخ و شجر چپ ہیں ہلتا نہیں پتا بھی
جمال پانی پتی
موتی مونگے کنکر پتھر بچے نہ کوئی بھائی
سمے کی چکی سب کو پیسے کیا پربت کیا رائی
جمال پانی پتی

