EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب تو تیرے حسن کی ہر انجمن میں دھوم ہے
جس نے میرا حال دیکھا تیرا دیوانہ ہوا

جمیل یوسف




اے خدا تو ہی بے مثال نہیں
میں بھی ہوں کائنات میں تنہا

جمیل یوسف




دل جہاں لے جائے دل کے ساتھ جانا چاہیئے
اس سے بڑھ کر اور کوئی رہنما ہوتا نہیں

جمیل یوسف




تیری دنیا میں ترے حسن کا شیدائی ہوں
اے خدا مجھ کو گنہ گار نہ سمجھا جائے

جمیل یوسف




تیری دوری بھی ہے مشکل تری قربت بھی محال
کس قدر تو نے مری جان ستایا ہے مجھے

جمیل یوسف




تو مری راہ میں کیوں حائل ہے
ایک امڈے ہوئے دریا کی طرح

جمیل یوسف




عالؔی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار
ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار

جمیل الدین عالی