EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود
بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

جگن ناتھ آزادؔ




سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والے
یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا

جگن ناتھ آزادؔ




تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والو
سحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزری

جگن ناتھ آزادؔ




آئیں پسند کیا اسے دنیا کی راحتیں
جو لذت آشنائے ستم ہائے ناز تھا

جگت موہن لال رواںؔ




ابھی تک فصل گل میں اک صدائے درد آتی ہے
وہاں کی خاک سے پہلے جہاں تھا آشیاں میرا

جگت موہن لال رواںؔ




اگر کچھ روز زندہ رہ کے مر جانا مقدر ہے
تو اس دنیا میں آخر باعث تخلیق جاں کیا تھا

جگت موہن لال رواںؔ




ہنسے بھی روئے بھی لیکن نہ سمجھے
خوشی کیا چیز ہے دنیا میں غم کیا

جگت موہن لال رواںؔ