میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود
بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا
جگن ناتھ آزادؔ
سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والے
یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا
جگن ناتھ آزادؔ
تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والو
سحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزری
جگن ناتھ آزادؔ
آئیں پسند کیا اسے دنیا کی راحتیں
جو لذت آشنائے ستم ہائے ناز تھا
جگت موہن لال رواںؔ
ابھی تک فصل گل میں اک صدائے درد آتی ہے
وہاں کی خاک سے پہلے جہاں تھا آشیاں میرا
جگت موہن لال رواںؔ
اگر کچھ روز زندہ رہ کے مر جانا مقدر ہے
تو اس دنیا میں آخر باعث تخلیق جاں کیا تھا
جگت موہن لال رواںؔ
ہنسے بھی روئے بھی لیکن نہ سمجھے
خوشی کیا چیز ہے دنیا میں غم کیا
جگت موہن لال رواںؔ

