EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چلتے رہے ہم تند ہواؤں کے مقابل
آزادؔ چراغ تہ داماں نہ رہے ہم

جگن ناتھ آزادؔ




ڈھونڈھنے پر بھی نہ ملتا تھا مجھے اپنا وجود
میں تلاش دوست میں یوں بے نشاں تھا دوستو

جگن ناتھ آزادؔ




ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیا
تم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھا

جگن ناتھ آزادؔ




ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا
انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

جگن ناتھ آزادؔ




اک بار اگر قفس کی ہوا راس آ گئی
اے خود فریب پھر ہوس بال و پر کہاں

جگن ناتھ آزادؔ




اس سے زیادہ دور جنوں کی خبر نہیں
کچھ بے خبر سے آپ تھے کچھ بے خبر سے ہم

جگن ناتھ آزادؔ




کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والے
کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا

جگن ناتھ آزادؔ