EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہے آج رخ ہوا کا موافق تو چل نکل
کل کی کسے خبر ہے کدھر کی ہوا چلے

اسماعیلؔ میرٹھی




ہے آج رخ ہوا کا موافق تو چل نکل
کل کی کسے خبر ہے کدھر کی ہوا چلے

اسماعیلؔ میرٹھی




ہے اشک و آہ راس ہمارے مزاج کو
یعنی پلے ہوئے اسی آب و ہوا کے ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




ہے اس انجمن میں یکساں عدم و وجود میرا
کہ جو میں یہاں نہ ہوتا یہی کاروبار ہوتا

اسماعیلؔ میرٹھی




ہر شکل میں تھا وہی نمودار
ہم نے ہی نگاہ سرسری کی

اسماعیلؔ میرٹھی




اظہار حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




جب غنچہ کو واشد ہوئی تحریک صبا سے
بلبل سے عجب کیا جو کرے نغمہ سرائی

اسماعیلؔ میرٹھی