EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ کہہ تو شیخ مجھے زہد سیکھ مستی چھوڑ
تری پسند جدا ہے مری پسند جدا

انشاءؔ اللہ خاں




نہ لگی مجھ کو جب اس شوخ طرحدار کی گیند
اس نے محرم کو سنبھال اور ہی تیار کی گیند

انشاءؔ اللہ خاں




نزاکت اس گل رعنا کی دیکھیو انشاؔ
نسیم صبح جو چھو جائے رنگ ہو میلا

انشاءؔ اللہ خاں




سانولے تن پہ غضب دھج ہے بسنتی شال کی
جی میں ہے کہہ بیٹھیے اب جے کنھیا لال کی

انشاءؔ اللہ خاں




صنم خانہ جاتا ہوں تو مجھ کو ناحق
نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا

انشاءؔ اللہ خاں




شیخ جی یہ بیان کرو ہم بھی تو باری کچھ سنیں
آپ کے ہاتھ کیا لگا خلوت و اعتکاف میں

انشاءؔ اللہ خاں




صبح دم مجھ سے لپٹ کر وہ نشے میں بولے
تم بنے باد صبا ہم گل نسرین ہوئے

انشاءؔ اللہ خاں