EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں یوں جیسے کنہیا
سو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ اور آنکھوں میں پنگھٹ

انشاءؔ اللہ خاں




ہر طرف ہیں ترے دیدار کے بھوکے لاکھوں
پیٹ بھر کر کوئی ایسا بھی طرحدار نہ ہو

انشاءؔ اللہ خاں




ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

انشاءؔ اللہ خاں




جاوے وہ صنم برج کو تو آپ کنہیا
جھٹ سامنے ہو مرلی کی دھن نذر پکڑ کر

انشاءؔ اللہ خاں




جذبۂ عشق سلامت ہے تو انشا اللہ
کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے

انشاءؔ اللہ خاں




جس نے یارو مجھ سے دعویٰ شعر کے فن کا کیا
میں نے لے کر اس کے کاغذ اور قلم آگے دھرا

انشاءؔ اللہ خاں




کاٹے ہیں ہم نے یوں ہی ایام زندگی کے
سیدھے سے سیدھے سادے اور کج سے کج رہے ہیں

انشاءؔ اللہ خاں