EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

انشاءؔ اللہ خاں




خوباں روزگار مقلد تیری ہیں سب
جو چیز تو کرے سو وہ پاوے رواج آج

انشاءؔ اللہ خاں




کچھ اشارہ جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت
ٹال کر کہنے لگے دن ہے ابھی رات کے وقت

انشاءؔ اللہ خاں




کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر

انشاءؔ اللہ خاں




لیلیٰ و مجنوں کی لاکھوں گرچہ تصویریں کھنچیں
مل گئی سب خاک میں جس وقت زنجیریں کھنچیں

انشاءؔ اللہ خاں




میں نے جو کچکچا کر کل ان کی ران کاٹی
تو ان نے کس مزے سے میری زبان کاٹی

انشاءؔ اللہ خاں




نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

انشاءؔ اللہ خاں