کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
انشاءؔ اللہ خاں
خوباں روزگار مقلد تیری ہیں سب
جو چیز تو کرے سو وہ پاوے رواج آج
انشاءؔ اللہ خاں
کچھ اشارہ جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت
ٹال کر کہنے لگے دن ہے ابھی رات کے وقت
انشاءؔ اللہ خاں
کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر
انشاءؔ اللہ خاں
لیلیٰ و مجنوں کی لاکھوں گرچہ تصویریں کھنچیں
مل گئی سب خاک میں جس وقت زنجیریں کھنچیں
انشاءؔ اللہ خاں
میں نے جو کچکچا کر کل ان کی ران کاٹی
تو ان نے کس مزے سے میری زبان کاٹی
انشاءؔ اللہ خاں
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں
انشاءؔ اللہ خاں

