EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زاہدو دعوت رنداں ہے شراب اور کباب
کبھی میخانے میں بھی روزہ کشائی ہو جائے

امداد علی بحر




ظالم ہماری آج کی یہ بات یاد رکھ
اتنا بھی دل جلوں کا ستانا بھلا نہیں

امداد علی بحر




خزاں کا زہر سارے شہر کی رگ رگ میں اترا ہے
گلی کوچوں میں اب تو زرد چہرے دیکھنے ہوں گے

امداد ہمدانی




مصالحت کا پڑھا ہے جب سے نصاب میں نے
سلیقہ دنیا میں زندہ رہنے کا آ گیا ہے

امداد ہمدانی




آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں
کس غضب کی ہے جوانی میری

امداد امام اثرؔ




اب جہاں پر ہے شیخ کی مسجد
پہلے اس جا شراب خانہ تھا

امداد امام اثرؔ




بناتے ہیں ہزاروں زخم خنداں خنجر غم سے
دل ناشاد کو ہم اس طرح پر شاد کرتے ہیں

امداد امام اثرؔ