EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جب نہیں کچھ اعتبار زندگی
اس جہاں کا شاد کیا ناشاد کیا

امداد امام اثرؔ




کیسا آنا کیسا جانا میرے گھر کیا آؤ گے
غیروں کے گھر جانے سے تم فرصت کس دن پاتے ہو

امداد امام اثرؔ




کرتا ہے اے اثرؔ دل خوں گشتہ کا گلہ
عاشق وہ کیا کہ خستۂ تیغ جفا نہ ہو

امداد امام اثرؔ




خدا جانے اثرؔ کو کیا ہوا ہے
رہا کرتا ہے چپ دو دو پہر تک

امداد امام اثرؔ




خوب و زشت جہاں کا فرق نہ پوچھ
موت جب آئی سب برابر تھا

امداد امام اثرؔ




کچھ سمجھ کر اس مۂ خوبی سے کی تھی دوستی
یہ نہ سمجھے تھے کہ دشمن آسماں ہو جائے گا

امداد امام اثرؔ




لوگ جب تیرا نام لیتے ہیں
ہم کلیجے کو تھام لیتے ہیں

امداد امام اثرؔ