زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں
دہان زخم قاتل دم بدم فریاد کرتے ہیں
سمجھ کر کیا اسیران قفس فریاد کرتے ہیں
توجہ بھی کہیں فریاد پر صیاد کرتے ہیں
عذاب قبر سے پاتے ہیں راحت عشق کے مجرم
پس مرداں جفائیں یار کی جب یاد کرتے ہیں
نہ کہہ بہر خدا تو بندگان عشق کو کافر
بتوں کی یاد میں زاہد خدا کو یاد کرتے ہیں
ذرا صیاد چل کر دیکھ تو کیا حال ہے ان کا
اسیران قفس فریاد پر فریاد کرتے ہیں
بتان سنگ دل کے ہاتھ سے دل ہی نہیں نالاں
برابر دیر میں ناقوس بھی فریاد کرتے ہیں
بناتے ہیں ہزاروں زخم خنداں خنجر غم سے
دل ناشاد کو ہم اس طرح پر شاد کرتے ہیں
ملے لذت جو ایذا سے تو باز آتے ہیں ایذا سے
ستم ایجاد ہیں طرز ستم ایجاد کرتے ہیں
اثرؔ کو دیکھ کر کیا روح کو صدمہ پہنچتا ہے
خدا سمجھے بتوں سے کس قدر بیداد کرتے ہیں

غزل
زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیں
امداد امام اثرؔ