EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تمام عمر یوں ہی ہو گئی بسر اپنی
شب فراق گئی روز انتظار آیا

امام بخش ناسخ




تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

امام بخش ناسخ




تین تربینی ہیں دو آنکھیں مری
اب الہ آباد بھی پنجاب ہے

امام بخش ناسخ




وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

امام بخش ناسخ




وہ نظر آتا ہے مجھ کو میں نظر آتا نہیں
خوب کرتا ہوں اندھیرے میں نظارے رات کو

امام بخش ناسخ




زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ




زلفوں میں کیا قید نہ ابرو سے کیا قتل
تو نے تو کوئی بات نہ مانی مرے دل کی

امام بخش ناسخ