EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

رات دن ناقوس کہتے ہیں بآواز بلند
دیر سے بہتر ہے کعبہ گر بتوں میں تو نہیں

امام بخش ناسخ




رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی
دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ




رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں
جس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیں

امام بخش ناسخ




شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میں
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں

امام بخش ناسخ




سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے

امام بخش ناسخ




تازگی ہے سخن کہنہ میں یہ بعد وفات
لوگ اکثر مرے جینے کا گماں رکھتے ہیں

امام بخش ناسخ




تکلم ہی فقط ہے اس صنم کا
خدا کی طرح گویا بے دہاں ہے

امام بخش ناسخ