ظہور پیکری صحرا میں ہے صرف اک نشاں میرا
غبار کارواں ہوں دور نکلا کارواں میرا
رسائی مرگ شوق افتادگی ننگ تن آسانی
بلا کی کشمکش ہے اور غبار ناتواں میرا
مجھے گھبرا کے دوش ہستی جاوید پر پھینکا
کوئی دم بھی نہ اٹھا موت سے بار گراں میرا
مرے ساز نفس کی خامشی پر روح کہتی ہے
نہ آئی مجھ کو نیند اور سو گیا افسانہ خواں میرا
خرابی خندہ زن ہے کوشش تعمیر پر میری
قفس کو توڑتا جاتا ہے شوق آشیاں میرا
غزل
ظہور پیکری صحرا میں ہے صرف اک نشاں میرا
اجتبیٰ رضوی