پھر اٹھایا جاؤں گا مٹی میں مل جانے کے بعد
گرچہ ہوں سہما ہوا بنیاد ہل جانے کے بعد
آپ اب ہم سے ہماری خیریت مت پوچھئے
آدمی خود کا کہاں رہتا ہے دل جانے کے بعد
سخت جانی کی بدولت اب بھی ہم ہیں تازہ دم
خشک ہو جاتے ہیں ورنہ پیڑ ہل جانے کے بعد
خوف آتا ہے بلندی کی طرف چڑھتے ہوئے
گل کا مرجھانا ہی رہ جاتا ہے کھل جانے کے بعد
فکر لاحق ہے ہمیشہ مثل تخم ناتواں
حشر کیا ہوگا درون آب و گل جانے کے بعد
اس طرح حیران ہیں سب دیکھ کر راغبؔ مجھے
جیسے کوئی آ گیا ہو مستقل جانے کے بعد

غزل
پھر اٹھایا جاؤں گا مٹی میں مل جانے کے بعد
افتخار راغب