EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس قدر مت اداس ہو جیسے
یہ محبت کا آخری دن ہے

ادریس بابر




کام کی بات پوچھتے کیا ہو
کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا یعنی

ادریس بابر




کہانیوں نے مری عادتیں بگاڑی تھیں
میں صرف سچ کو ظفر یاب دیکھ سکتا تھا

ادریس بابر




خودکشی بھی نہیں مرے بس میں
لوگ بس یوں ہی مجھ سے ڈرتے ہیں

ادریس بابر




کدھر گیا وہ کوزہ گر خبر نہیں
کوئی سراغ چاک سے نہیں ملا

ادریس بابر




کوئی بھی دل میں ذرا جم کے خاک اڑاتا تو
ہزار گوہر نایاب دیکھ سکتا تھا

ادریس بابر




میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں مگر اے دوست
میں چاہتا ہوں کہ وہ خواب پھر بہم کئے جائیں

ادریس بابر