کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا
کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں
عبرت مچھلی شہری
سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں
وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا
عبرت مچھلی شہری
وہ یوں ثبوت عروج و زوال دیتا تھا
اٹھا کے ہاتھ میں پتھر اچھال دیتا تھا
عبرت مچھلی شہری
زمیں کے جسم کو ٹکڑوں میں بانٹنے والو
کبھی یہ غور کرو کائنات کس کی ہے
عبرت مچھلی شہری
زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔ
یہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائے
عبرت مچھلی شہری
آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا
شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ
ادریس بابر
درد کا دل کا شام کا بزم کا مے کا جام کا
رنگ بدل بدل گیا ایک نظر کے ساتھ ساتھ
ادریس بابر

