EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا
کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

عبرت مچھلی شہری




سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں
وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا

عبرت مچھلی شہری




وہ یوں ثبوت عروج و زوال دیتا تھا
اٹھا کے ہاتھ میں پتھر اچھال دیتا تھا

عبرت مچھلی شہری




زمیں کے جسم کو ٹکڑوں میں بانٹنے والو
کبھی یہ غور کرو کائنات کس کی ہے

عبرت مچھلی شہری




زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔ
یہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائے

عبرت مچھلی شہری




آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا
شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ

ادریس بابر




درد کا دل کا شام کا بزم کا مے کا جام کا
رنگ بدل بدل گیا ایک نظر کے ساتھ ساتھ

ادریس بابر