EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دھول اڑتی ہے تو یاد آتا ہے کچھ
ملتا جلتا تھا لبادہ میرا

ادریس بابر




دل کی اک ایک خرابی کا سبب جانتے ہیں
پھر بھی ممکن ہے کہ ہم تم سے مروت کر جائیں

ادریس بابر




ہاں اے غبار آشنا میں بھی تھا ہم سفر ترا
پی گئیں منزلیں تجھے کھا گئے راستے مجھے

ادریس بابر




ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت
پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے

ادریس بابر




اک دیا دل کی روشنی کا سفیر
ہو میسر تو رات بھی دن ہے

ادریس بابر




اک خوف زدہ سا شخص گھر تک
پہنچا کئی راستوں میں بٹ کر

ادریس بابر




اس اندھیرے میں جب کوئی بھی نہ تھا
مجھ سے گم ہو گیا خدا مجھ میں

ادریس بابر