EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا
سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا

ہلال فرید




اس عقل کی ماری نگری میں کبھی پانی آگ نہیں بنتا
یہاں عشق بھی لوگ نہیں کرتے یہاں کوئی کمال نہیں ہوتا

ہلال فرید




جام عشق پی چکے زندگی بھی جی چکے
اب ہلالؔ گھر چلو اب تو شام ہو گئی

ہلال فرید




جب وقت پڑا تھا تو جو کچھ ہم نے کیا تھا
سمجھے تھے وہی یار ہمارا بھی کرے گا

ہلال فرید




مری داستاں بھی عجیب ہے وہ قدم قدم مرے ساتھ تھا
جسے راز دل نہ بتا سکا جسے داغ دل نہ دکھا سکا

ہلال فرید




نہ ہی بجلیاں نہ ہی بارشیں نہ ہی دشمنوں کی وہ سازشیں
بھلا کیا سبب ہے بتا ذرا جو تو آج بھی نہیں آ سکا

ہلال فرید




پانی پہ بنتے عکس کی مانند ہوں مگر
آنکھوں میں کوئی بھر لے تو مٹتا نہیں ہوں میں

ہلال فرید