EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ درد تھا نہ خلش تھی نہ تلملانا تھا
کسی کا عشق نہ تھا وہ بھی کیا زمانا تھا

ہجرؔ ناظم علی خان




شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا
کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا

ہجرؔ ناظم علی خان




اس بزم میں جو کچھ نظر آیا نظر آیا
اب کون بتائے کہ ہمیں کیا نظر آیا

ہجرؔ ناظم علی خان




آج نہ ہم سے پوچھئے کیسا کمال ہو گیا
ہجر کے خوف میں رہے اور وصال ہو گیا

ہلال فرید




آج پھر دب گئیں درد کی سسکیاں
آج پھر گونجتا قہقہہ رہ گیا

ہلال فرید




اپنے دکھ میں رونا دھونا آپ ہی آیا
غیر کے دکھ میں خود کو دکھانا عشق میں سیکھا

ہلال فرید




باہر جو نہیں تھا تو کوئی بات نہیں تھی
احساس ندامت مگر اندر بھی نہیں تھا

ہلال فرید