EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وسعت طلسم خانۂ عالم کی کیا کہوں
تھک تھک گئی نگاہ تماشے نہ کم ہوئے

ہیرا لال فلک دہلوی




یاد اتنا ہے مرے لب پہ فغاں آئی تھی
پھر خدا جانے کہاں دل کی یہ آواز گئی

ہیرا لال فلک دہلوی




دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے
غضب کی دھوپ میں برسات تھوڑی ہوتی ہے

حجاب عباسی




ہے جب تک دشت پیمائی سلامت
رہے گی آبلہ پائی سلامت

حجاب عباسی




ہم اس شہر جفا پیشہ سے کچھ امید کیا رکھیں
یہاں اس ہاو ہو میں خامشی کو کون لکھے گا

حجاب عباسی




آیا بھی کوئی دل میں گیا بھی کوئی دل سے
آنا نظر آیا نہ یہ جانا نظر آیا

ہجرؔ ناظم علی خان




اے ہجر وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا
لیکن یہ دیکھنا ہے کہ مٹی کہاں کی ہے

ہجرؔ ناظم علی خان