EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں
آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں

ہجرؔ ناظم علی خان




ہزار رنج ہیں اب یہ بھی اک زمانا ہے
کوئی ملال نہ تھا وہ بھی اک زمانا تھا

ہجرؔ ناظم علی خان




کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں
کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا

ہجرؔ ناظم علی خان




کہے گی حشر کے دن اس کی رحمت بے حد
کہ بے گناہ سے اچھا گناہگار رہا

ہجرؔ ناظم علی خان




کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے
رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

ہجرؔ ناظم علی خان




کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی
تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے

ہجرؔ ناظم علی خان




مجھے وہ یاد کرتے ہیں یہ کہہ کر
خدا بخشے نہایت باوفا تھا

ہجرؔ ناظم علی خان