EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حال بیمار کا پوچھو تو شفا ملتی ہے
یعنی اک کلمۂ پرسش بھی دوا ہوتا ہے

ہیرا لال فلک دہلوی




ہم تو منزل کے طلب گار تھے لیکن منزل
آگے بڑھتی ہے گئی راہ گزر کی صورت

ہیرا لال فلک دہلوی




کیا بات ہے نظروں سے اندھیرا نہیں جاتا
کچھ بات نہ کر لی ہو شب غم نے سحر سے

ہیرا لال فلک دہلوی




لوگ اندازہ لگائیں گے عمل سے میرے
میں ہوں کیسا مرے ماتھے پہ یہ تحریر نہیں

ہیرا لال فلک دہلوی




میں نے انجام سے پہلے نہ پلٹ کر دیکھا
دور تک ساتھ مرے منزل آغاز گئی

ہیرا لال فلک دہلوی




میں ترا جلوہ تو میرا دل ہے میرے ہم نشیں
میں تری محفل میں ہوں اور تو مری محفل میں ہے

ہیرا لال فلک دہلوی




مقام برق جسے آسماں بھی کہتے ہیں
ارادہ اب ہے وہاں اپنا گھر بنانے کا

ہیرا لال فلک دہلوی