محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے
میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا
حسرتؔ عظیم آبادی
نا خلف بسکہ اٹھی عشق و جنوں کی اولاد
کوئی آباد کن خانۂ زنجیر نہیں
حسرتؔ عظیم آبادی
نبھے تھی آن انہوں کی ہمیشہ عشق میں خوب
تمہارے دور میں میری گدا ہوئیں آنکھیں
حسرتؔ عظیم آبادی
رہے ہے نقش میرے چشم و دل پر یوں تری صورت
مصور کی نظر میں جس طرح تصویر پھرتی ہے
حسرتؔ عظیم آبادی
ساقیا پیہم پلا دے مجھ کو مالا مال جام
آیا ہوں یاں میں عذاب ہوشیاری کھینچ کر
حسرتؔ عظیم آبادی
سجدہ گاہ برہمن اور شیخ ہیں دیر و حرم
مے پرستوں کے لیے بنیاد مے خانے ہوئے
حسرتؔ عظیم آبادی
سوگند ہے حسرت مجھے اعجاز سخن کی
یہ سحر ہیں جادو ہیں نہ اشعار ہیں تیرے
حسرتؔ عظیم آبادی

