EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اے مری جان اپنے جی کے سوا
کون تیرا ہے کون میرا ہے

حفیظ جالندھری




بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو
کوئی کمبخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے

حفیظ جالندھری




بے تعلق زندگی اچھی نہیں
زندگی کیا موت بھی اچھی نہیں

حفیظ جالندھری




بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں
تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا

حفیظ جالندھری




بت کدے سے چلے ہو کعبے کو
کیا ملے گا تمہیں خدا کے سوا

حفیظ جالندھری




چراغ خانۂ درویش ہوں میں
ادھر جلتا ادھر بجھتا رہا ہوں

حفیظ جالندھری




دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

حفیظ جالندھری