ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسے
تجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے
حفیظ ہوشیارپوری
تری تلاش ہے یا تجھ سے اجتناب ہے یہ
کہ روز ایک نئے راستے پہ چلتے ہیں
حفیظ ہوشیارپوری
تری تلاش میں جب ہم کبھی نکلتے ہیں
اک اجنبی کی طرح راستے بدلتے ہیں
حفیظ ہوشیارپوری
یہ دل کشی کہاں مری شام و سحر میں تھی
دنیا تری نظر کی بدولت نظر میں ہے
حفیظ ہوشیارپوری
یہ تمیز عشق و ہوس نہیں ہے حقیقتوں سے گریز ہے
جنہیں عشق سے سروکار ہے وہ ضرور اہل ہوس بھی ہیں
حفیظ ہوشیارپوری
آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنے
غفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نے
حفیظ جالندھری
آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر
حفیظ جالندھری

