EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسے
تجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

حفیظ ہوشیارپوری




تری تلاش ہے یا تجھ سے اجتناب ہے یہ
کہ روز ایک نئے راستے پہ چلتے ہیں

حفیظ ہوشیارپوری




تری تلاش میں جب ہم کبھی نکلتے ہیں
اک اجنبی کی طرح راستے بدلتے ہیں

حفیظ ہوشیارپوری




یہ دل کشی کہاں مری شام و سحر میں تھی
دنیا تری نظر کی بدولت نظر میں ہے

حفیظ ہوشیارپوری




یہ تمیز عشق و ہوس نہیں ہے حقیقتوں سے گریز ہے
جنہیں عشق سے سروکار ہے وہ ضرور اہل ہوس بھی ہیں

حفیظ ہوشیارپوری




آ ہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اتارنے
غفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نے

حفیظ جالندھری




آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

حفیظ جالندھری