EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی اک ذائقہ نہیں ملتا
غم میں شامل خوشی سی رہتی ہے

غلام مرتضی راہی




کچھ ایسے دیکھتا ہے وہ مجھے کہ لگتا ہے
دکھا رہا ہے مجھے میرا آئنا کچھ اور

غلام مرتضی راہی




میں ترے واسطے آئینہ تھا
اپنی صورت کو ترس اب کیا ہے

غلام مرتضی راہی




میری کشتی کو ڈبو کر چین سے بیٹھے نہ تو
اے مرے دریا! ہمیشہ تجھ میں طغیانی رہے

غلام مرتضی راہی




میری پہچان بتانے کا سوال آیا جب
آئنوں نے بھی حقیقت سے مکرنا چاہا

غلام مرتضی راہی




نہ جانے قید میں ہوں یا حفاظت میں کسی کی
کھنچی ہے ہر طرف اک چار دیواری سی کوئی

غلام مرتضی راہی




پہلے چنگاری اڑا لائی ہوا
لے کے اب راکھ اڑی جاتی ہے

غلام مرتضی راہی