EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایک اک لفظ سے معنی کی کرن پھوٹتی ہے
روشنی میں پڑھا جاتا ہے صحیفہ میرا

غلام مرتضی راہی




گرمیوں بھر مرے کمرے میں پڑا رہتا ہے
دیکھ کر رخ مجھے سورج کا یہ گھر لینا تھا

غلام مرتضی راہی




ہم سری ان کی جو کرنا چاہے
اس کو سولی پر چڑھا دیتے ہیں

غلام مرتضی راہی




ہر ایک سانس مجھے کھینچتی ہے اس کی طرف
یہ کون میرے لیے بے قرار رہتا ہے

غلام مرتضی راہی




حصار جسم مرا توڑ پھوڑ ڈالے گا
ضرور کوئی مجھے قید سے چھڑا لے گا

غلام مرتضی راہی




حسن عمل میں برکتیں ہوتی ہیں بے شمار
پتھر بھی توڑیئے تو سلیقے سے توڑیئے

غلام مرتضی راہی




جیسے کوئی کاٹ رہا ہے جال مرا
جیسے اڑنے والا کوئی پرندہ ہے

غلام مرتضی راہی