EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس نے جب دروازہ مجھ پر بند کیا
مجھ پر اس کی محفل کے آداب کھلے

غلام مرتضی راہی




یاروں نے میری راہ میں دیوار کھینچ کر
مشہور کر دیا کہ مجھے سایہ چاہئے

غلام مرتضی راہی




یہ دور ہے جو تمہارا رہے گا یہ بھی نہیں
کوئی زمانہ تھا میرا گزر گیا وہ بھی

غلام مرتضی راہی




یہ لوگ کس کی طرف دیکھتے ہیں حسرت سے
وہ کون ہے جو سمندر کے پار رہتا ہے

غلام مرتضی راہی




یوں ہی بنیاد کا درجہ نہیں ملتا کسی کو
کھڑی کی جائے گی مجھ پر ابھی دیوار کوئی

غلام مرتضی راہی




زبان اپنی بدلنے پہ کوئی راضی نہیں
وہی جواب ہے اس کا وہی سوال مرا

غلام مرتضی راہی




مجھے اس نیند کے ماتھے کا بوسہ ہو عنایت
جو مجھ سے خواب کا آزار لے کر جا رہی ہے

غزالہ شاہد