اپنی تصویر کے اک رخ کو نہاں رکھتا ہے
یہ چراغ اپنا دھواں جانے کہاں رکھتا ہے
غلام مرتضی راہی
ٹیگز:
| چارغ |
| 2 لائنیں شیری |
چاہتا ہے وہ کہ دریا سوکھ جائے
ریت کا بیوپار کرنا چاہتا ہے
غلام مرتضی راہی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
چلے تھے جس کی طرف وہ نشان ختم ہوا
سفر ادھورا رہا آسمان ختم ہوا
غلام مرتضی راہی
ٹیگز:
| سفار |
| 2 لائنیں شیری |
دیکھنے سننے کا مزہ جب ہے
کچھ حقیقت ہو کچھ فسانہ ہو
غلام مرتضی راہی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل نے تمنا کی تھی جس کی برسوں تک
ایسے زخم کو اچھا کر کے بیٹھ گئے
غلام مرتضی راہی
دوسرا کوئی تماشہ نہ تھا ظالم کے پاس
وہی تلوار تھی اس کی وہی سر تھا میرا
غلام مرتضی راہی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک دن دریا مکانوں میں گھسا
اور دیواریں اٹھا کر لے گیا
غلام مرتضی راہی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

