EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنی تصویر کے اک رخ کو نہاں رکھتا ہے
یہ چراغ اپنا دھواں جانے کہاں رکھتا ہے

غلام مرتضی راہی




چاہتا ہے وہ کہ دریا سوکھ جائے
ریت کا بیوپار کرنا چاہتا ہے

غلام مرتضی راہی




چلے تھے جس کی طرف وہ نشان ختم ہوا
سفر ادھورا رہا آسمان ختم ہوا

غلام مرتضی راہی




دیکھنے سننے کا مزہ جب ہے
کچھ حقیقت ہو کچھ فسانہ ہو

غلام مرتضی راہی




دل نے تمنا کی تھی جس کی برسوں تک
ایسے زخم کو اچھا کر کے بیٹھ گئے

غلام مرتضی راہی




دوسرا کوئی تماشہ نہ تھا ظالم کے پاس
وہی تلوار تھی اس کی وہی سر تھا میرا

غلام مرتضی راہی




ایک دن دریا مکانوں میں گھسا
اور دیواریں اٹھا کر لے گیا

غلام مرتضی راہی