EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جھانکتا بھی نہیں سورج مرے گھر کے اندر
بند بھی کوئی دریچہ نہیں رہنے دیتا

غلام مرتضی راہی




جو اس طرف سے اشارہ کبھی کیا اس نے
میں ڈوب جاؤں گا دریا کو پار کرتے ہوئے

غلام مرتضی راہی




کہاں تک اس کی مسیحائی کا شمار کروں
جہاں ہے زخم وہیں اندمال ہے اس کا

غلام مرتضی راہی




کیسا انساں ترس رہا ہے جینے کو
کیسے ساحل پر اک مچھلی زندہ ہے

غلام مرتضی راہی




کسی کی راہ میں آنے کی یہ بھی صورت ہے
کہ سایہ کے لیے دیوار ہو لیا جائے

غلام مرتضی راہی




کسی نے بھیج کر کاغذ کی کشتی
بلایا ہے سمندر پار مجھ کو

غلام مرتضی راہی




کتنا بھی رنگ و نسل میں رکھتے ہوں اختلاف
پھر بھی کھڑے ہوئے ہیں شجر اک قطار میں

غلام مرتضی راہی