EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پہلے اس نے مجھے چنوا دیا دیوار کے ساتھ
پھر عمارت کو مرے نام سے موسوم کیا

غلام مرتضی راہی




پرکھوں سے چلی آتی ہے یہ نقل مکانی
اب مجھ سے بھی خالی مرا گھر ہونے لگا ہے

غلام مرتضی راہی




رہے گا آئینے کی طرح آب پر قائم
ندی میں ڈوبنے والا نہیں کنارہ مرا

غلام مرتضی راہی




رکھ دیا وقت نے آئینہ بنا کر مجھ کو
رو بہ رو ہوتے ہوئے بھی میں فراموش رہا

غلام مرتضی راہی




رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے
بہلائے جاتے ہیں یہاں پیاسے سراب سے

غلام مرتضی راہی




سانسوں کے آنے جانے سے لگتا ہے
اک پل جیتا ہوں تو اک پل مرتا ہوں

غلام مرتضی راہی




صحرا جنگل ساگر پربت
ان سے ہی رستہ ملتا ہے

غلام مرتضی راہی