EN हिंदी
شکل صحرا کی ہمیشہ جانی پہچانی رہے | شیح شیری
shakl sahra ki hamesha jaani-pahchani rahe

غزل

شکل صحرا کی ہمیشہ جانی پہچانی رہے

غلام مرتضی راہی

;

شکل صحرا کی ہمیشہ جانی پہچانی رہے
میرے آگے پیچھے دائیں بائیں ویرانی رہے

ساری سمتیں آ کے جس مرکز پہ ہو جاتی ہیں ایک
خم اسی جانب ہمیشہ میری پیشانی رہے

آگے آگے میں ترا پرچم لیے چلتا رہوں
ارض دل پر میرے قائم تیری سلطانی رہے

روشنی کو ہو مری ایسا کوئی ماخذ عطا
ذرۂ ناچیز میں دن رات تابانی رہے

نیزہ و شمشیر و خنجر کی اگر افراط ہے
خون کی بھی میری رگ رگ میں فراوانی رہے

میری کشتی کو ڈبو کر چین سے بیٹھے نہ تو
اے مرے دریا! ہمیشہ تجھ میں طغیانی رہے

اب تجاوز بن گیا معمول ورنہ مدتوں
اپنی اپنی حد میں شہری اور بیابانی رہے