یہ سچ ہے مل بیٹھنے کی حد تک تو کام آئی ہے خوش گمانی
مگر دلوں میں یہ دوستی کی نمود ہے راحت بیاں سے
غلام حسین ساجد
آسماں اہل زمیں سے کیا کدورت ناک تھا
مدعی بھی خاک تھی اور مدعا بھی خاک تھا
غلام مولیٰ قلق
امن اور تیرے عہد میں ظالم
کس طرح خاک رہ گزر بیٹھے
غلام مولیٰ قلق
اندازہ آدمی کا کہاں گر نہ ہو شراب
پیمانہ زندگی کا نہیں گر سبو نہ ہو
غلام مولیٰ قلق
اشک کے گرتے ہی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا
کون سی حسرت کا یا رب یہ چراغ خانہ تھا
غلام مولیٰ قلق
بوسہ دینے کی چیز ہے آخر
نہ سہی ہر گھڑی کبھی ہی سہی
غلام مولیٰ قلق
بت خانے کی الفت ہے نہ کعبے کی محبت
جویائی نیرنگ ہے جب تک کہ نظر ہے
غلام مولیٰ قلق

