EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ سچ ہے مل بیٹھنے کی حد تک تو کام آئی ہے خوش گمانی
مگر دلوں میں یہ دوستی کی نمود ہے راحت بیاں سے

غلام حسین ساجد




آسماں اہل زمیں سے کیا کدورت ناک تھا
مدعی بھی خاک تھی اور مدعا بھی خاک تھا

غلام مولیٰ قلق




امن اور تیرے عہد میں ظالم
کس طرح خاک رہ گزر بیٹھے

غلام مولیٰ قلق




اندازہ آدمی کا کہاں گر نہ ہو شراب
پیمانہ زندگی کا نہیں گر سبو نہ ہو

غلام مولیٰ قلق




اشک کے گرتے ہی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا
کون سی حسرت کا یا رب یہ چراغ خانہ تھا

غلام مولیٰ قلق




بوسہ دینے کی چیز ہے آخر
نہ سہی ہر گھڑی کبھی ہی سہی

غلام مولیٰ قلق




بت خانے کی الفت ہے نہ کعبے کی محبت
جویائی نیرنگ ہے جب تک کہ نظر ہے

غلام مولیٰ قلق