EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

راس آتی ہی نہیں جب پیار کی شدت مجھے
اک کمی اپنی محبت میں کہیں رکھوں گا میں

غلام حسین ساجد




رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں
چراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں

غلام حسین ساجد




ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے
چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے

غلام حسین ساجد




تڑپ اٹھی ہے کسی نگر میں قیام کرنے سے روح میری
سلگ رہا ہے کسی مسافت کی بے کلی سے دماغ میرا

غلام حسین ساجد




اس کے ہونے سے ہوئی ہے اپنے ہونے کی خبر
کوئی دشمن سے زیادہ لائق عزت نہیں

غلام حسین ساجد




یہ آب و تاب اسی مرحلے پہ ختم نہیں
کوئی چراغ ہے اس آئنے سے باہر بھی

غلام حسین ساجد




یہ سچ ہے میری صدا نے روشن کیے ہیں محراب پر ستارے
مگر مری بے قرار آنکھوں نے آئنے کا زیاں کیا ہے

غلام حسین ساجد