EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ناؤ نہ ڈوبی دریا میں
ناؤ میں دریا ڈوب گیا

گوہر ہوشیارپوری




پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا
جو تیرے سلام کو کھلا ہو

گوہر ہوشیارپوری




اجلے میلے پیش ہوئے
جیسے ہم تھے پیش ہوئے

گوہر ہوشیارپوری




عدم سے ہستی میں جب ہم آئے نہ کوئی ہمدرد ساتھ لائے
جو اپنے تھے وہ ہوئے پرائے اب آسرا ہے تو بیکسی کا

جارج پیش شور




دیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر
کچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا

جارج پیش شور




دل میں اپنے آرزو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں
دو جہاں کی جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

جارج پیش شور




دور ہم سے ہیں وہ تو کیا ڈر ہے
پاس ہے اپنے آرسی دل کی

جارج پیش شور