EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

منزلیں سمتیں بدلتی جا رہی ہیں روز و شب
اس بھری دنیا میں ہے انسان تنہا راہ رو

فضیل جعفری




مزاج الگ سہی ہم دونوں کیوں الگ ہوں کہ ہیں
سراب و آب میں پوشیدہ قربتیں کیا کیا

فضیل جعفری




تعلقات کا تنقید سے ہے یارانہ
کسی کا ذکر کرے کون احتساب کے ساتھ

فضیل جعفری




ترے بدن میں مرے خواب مسکراتے ہیں
دکھا کبھی مرے خوابوں کا آئینہ مجھ کو

فضیل جعفری




یہ سچ ہے ہم کو بھی کھونے پڑے کچھ خواب کچھ رشتے
خوشی اس کی ہے لیکن حلقۂ شر سے نکل آئے

فضیل جعفری




زہر میٹھا ہو تو پینے میں مزا آتا ہے
بات سچ کہیے مگر یوں کہ حقیقت نہ لگے

فضیل جعفری




ضد میں دنیا کی بہرحال ملا کرتے تھے
ورنہ ہم دونوں میں ایسی کوئی الفت بھی نہ تھی

فضیل جعفری