گھر سے باہر نہیں نکلا جاتا
روشنی یاد دلاتی ہے تری
فضیل جعفری
ہر آدمی میں تھے دو چار آدمی پنہاں
کسی کو ڈھونڈنے نکلا کوئی ملا مجھ کو
فضیل جعفری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر
پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی
فضیل جعفری
ٹیگز:
| خفف |
| 2 لائنیں شیری |
جو بھر بھی جائیں دل کے زخم دل ویسا نہیں رہتا
کچھ ایسے چاک ہوتے ہیں جو جڑ کر بھی نہیں سلتے
فضیل جعفری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کس درد سے روشن ہے سیہ خانۂ ہستی
سورج نظر آتا ہے ہمیں رات گئے بھی
فضیل جعفری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ
زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو
فضیل جعفری
میں اور مری ذات اگر ایک ہی شے ہیں
پھر برسوں سے دونوں میں صف آرائی سی کیوں ہے
فضیل جعفری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

