EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گھر سے باہر نہیں نکلا جاتا
روشنی یاد دلاتی ہے تری

فضیل جعفری




ہر آدمی میں تھے دو چار آدمی پنہاں
کسی کو ڈھونڈنے نکلا کوئی ملا مجھ کو

فضیل جعفری




اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر
پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی

فضیل جعفری




جو بھر بھی جائیں دل کے زخم دل ویسا نہیں رہتا
کچھ ایسے چاک ہوتے ہیں جو جڑ کر بھی نہیں سلتے

فضیل جعفری




کس درد سے روشن ہے سیہ خانۂ ہستی
سورج نظر آتا ہے ہمیں رات گئے بھی

فضیل جعفری




کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ
زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو

فضیل جعفری




میں اور مری ذات اگر ایک ہی شے ہیں
پھر برسوں سے دونوں میں صف آرائی سی کیوں ہے

فضیل جعفری