EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پتھروں کے دیس میں شیشے کا ہے اپنا وقار
دیوتا اپنی جگہ اور آدمی اپنی جگہ

گنیش بہاری طرز




رات کی رات بہت دیکھ لی دنیا تیری
صبح ہونے کو ہے اب طرزؔ کو سو جانے دے

گنیش بہاری طرز




صبح ہیں سجدے میں ہم تو شام ساقی کے حضور
بندگی اپنی جگہ اور مے کشی اپنی جگہ

گنیش بہاری طرز




یہ محل یہ مال و دولت سب یہیں رہ جائیں گے
ہاتھ آئے گی فقط دو گز زمیں مرنے کے بعد

گنیش بہاری طرز




کہاں وہ ضبط کے دعوے کہاں یہ ہم گوہرؔ
کہ ٹوٹتے تھے نہ پھر ٹوٹ کر بکھرتے تھے

گوہر ہوشیارپوری




لہجہ تو بدل چبھتی ہوئی بات سے پہلے
تیر ایسا تو کچھ ہو جسے نخچیر بھی چاہے

گوہر ہوشیارپوری




لوگ کنارے آن لگے
اور کنارہ ڈوب گیا

گوہر ہوشیارپوری