EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تمام عمر جو ہنستا ہی رہ گیا یارو
بلا کا درد تھا اس شخص کی کہانی میں

فردوس گیاوی




تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اسی عالم میں
بگڑے حالات غریبوں کے سنورتے ہیں کہیں

فردوس گیاوی




وہی جو دیتا ہے دنیا کو الجھنوں سے نجات
کبھی کبھی وہی الجھن میں ڈال دیتا ہے

فردوس گیاوی




تمام جسم کی پرتیں جدا جدا کرکے
جئے چلے گئے قسطوں میں لوگ مر مر کے

فضا کوثری




جی تن میں نہیں نہ جان باقی
ہے عشق کو امتحان باقی

فرانس گادلیب کوئن فراسو




آٹھوں پہر لہو میں نہایا کرے کوئی
یوں بھی نہ اپنے درد کو دریا کرے کوئی

فضیل جعفری




آتش فشاں زباں ہی نہیں تھی بدن بھی تھا
دریا جو منجمد ہے کبھی موجزن بھی تھا

فضیل جعفری