طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
فراق گورکھپوری
تیرے آنے کی کیا امید مگر
کیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیں
فراق گورکھپوری
تری نگاہ سہارا نہ دے تو بات ہے اور
کہ گرتے گرتے بھی دنیا سنبھل تو سکتی ہے
فراق گورکھپوری
تری نگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے
اتر گیا رگ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی
فراق گورکھپوری
تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل
اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں
فراق گورکھپوری
تم اسے شکوہ سمجھ کر کس لیے شرما گئے
مدتوں کے بعد دیکھا تھا تو آنسو آ گئے
فراق گورکھپوری
اسی کی شرح ہے یہ اٹھتے درد کا عالم
جو داستاں تھی نہاں تیرے آنکھ اٹھانے میں
فراق گورکھپوری

