EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

فراق گورکھپوری




تیرے آنے کی کیا امید مگر
کیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیں

فراق گورکھپوری




تری نگاہ سہارا نہ دے تو بات ہے اور
کہ گرتے گرتے بھی دنیا سنبھل تو سکتی ہے

فراق گورکھپوری




تری نگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہے
اتر گیا رگ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی

فراق گورکھپوری




تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل
اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں

فراق گورکھپوری




تم اسے شکوہ سمجھ کر کس لیے شرما گئے
مدتوں کے بعد دیکھا تھا تو آنسو آ گئے

فراق گورکھپوری




اسی کی شرح ہے یہ اٹھتے درد کا عالم
جو داستاں تھی نہاں تیرے آنکھ اٹھانے میں

فراق گورکھپوری