EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئے
بلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جانا

فراق گورکھپوری




یہ مانا زندگی ہے چار دن کی
بہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھی

فراق گورکھپوری




یہ ذلت عشق تیرے ہاتھوں
اے دوست تجھے کہاں چھپا لیں

فراق گورکھپوری




یہ زندگی کے کڑے کوس یاد آتے ہیں
تری نگاہ کرم کا گھنا گھنا سایا

فراق گورکھپوری




ضبط کیجے تو دل ہے انگارا
اور اگر روئیے تو پانی ہے

فراق گورکھپوری




ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

فراق گورکھپوری




ذوق نظارہ اسی کا ہے جہاں میں تجھ کو
دیکھ کر بھی جو لیے حسرت دیدار چلا

فراق گورکھپوری