زندگی کیا ہے آج اسے اے دوست
سوچ لیں اور اداس ہو جائیں
فراق گورکھپوری
زندگی میں جو اک کمی سی ہے
یہ ذرا سی کمی بہت ہے میاں
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملا
آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ابھی کچھ اور ہم کو تہمتوں کے زہر پینے ہیں
ابھی کچھ اور تم کو بد گمانی ہونے والی ہے
فراق جلال پوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے
فراق جلال پوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ
علم کی انتہا ہے خاموشی
فردوس گیاوی
میں ایک سنگ ہوں مجھ میں ہیں صورتیں پنہاں
مجھے تراشنے آذر تو سامنے آئے
فردوس گیاوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

