EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زندگی کیا ہے آج اسے اے دوست
سوچ لیں اور اداس ہو جائیں

فراق گورکھپوری




زندگی میں جو اک کمی سی ہے
یہ ذرا سی کمی بہت ہے میاں

فراق گورکھپوری




ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملا
آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری




ابھی کچھ اور ہم کو تہمتوں کے زہر پینے ہیں
ابھی کچھ اور تم کو بد گمانی ہونے والی ہے

فراق جلال پوری




تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے

فراق جلال پوری




علم کی ابتدا ہے ہنگامہ
علم کی انتہا ہے خاموشی

فردوس گیاوی




میں ایک سنگ ہوں مجھ میں ہیں صورتیں پنہاں
مجھے تراشنے آذر تو سامنے آئے

فردوس گیاوی