تجھ سے دل میں جو گلہ تھا وہ نہ لائے لب پر
پھر سے ہم بھر گئے زخموں کو ہرا کیا کرتے
فیاض فاروقی
یہ سوچا ہے کہ تجھ کو سوچنا اب چھوڑ دوں گا میں
یہ لغزش مجھ سے لیکن بے ارادہ ہو ہی جاتی ہے
فیاض فاروقی
چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
فیاض ہاشمی
نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ
دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
فیاض ہاشمی
جسے پانے کی خواہش میں جئے تھے
اسی کی ذات کا انکار کرنا
فیاض تحسین
کچھ عقدے ایسے ہوتے ہیں جو نہ ہی کھلیں تو بہتر ہے
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دل میں چھپا لینا اچھا
فیاض تحسین
تجھے خبر ہے کہ ابتدا بھی ہے انتہا بھی
جہان معنی میں درمیاں کو بھی یاد رکھنا
فیاض تحسین

