EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم حسین غزلوں سے پیٹ بھر نہیں سکتے
دولت سخن لے کر بے فراغ ہیں یارو

فضا ابن فیضی




ہر اک قیاس حقیقت سے دور تر نکلا
کتاب کا نہ کوئی درس معتبر نکلا

فضا ابن فیضی




جلا ہے شہر تو کیا کچھ نہ کچھ تو ہے محفوظ
کہیں غبار کہیں روشنی سلامت ہے

فضا ابن فیضی




کہاں وہ لوگ جو تھے ہر طرف سے نستعلیق
پرانی بات ہوئی چست بندشیں لکھنا

فضا ابن فیضی




خاک شبلیؔ سے خمیر اپنا بھی اٹھا ہے فضاؔ
نام اردو کا ہوا ہے اسی گھر سے اونچا

فضا ابن فیضی




خبر مجھ کو نہیں میں جسم ہوں یا کوئی سایا ہوں
ذرا اس کی وضاحت دھوپ کی چادر پہ لکھ دینا

فضا ابن فیضی




کس طرح عمر کو جاتے دیکھوں
وقت کو آنکھوں سے اوجھل کر دے

فضا ابن فیضی