کسی لمحے تو خود سے لا تعلق بھی رہو لوگو
مسائل کم نہیں پھر زندگی بھر سوچتے رہنا
فضا ابن فیضی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
لوگ مجھ کو مرے آہنگ سے پہچان گئے
کون بدنام رہا شہر سخن میں ایسا
فضا ابن فیضی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت
خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا
فضا ابن فیضی
ٹیگز:
| وقف |
| 2 لائنیں شیری |
نطق سے لب تک ہے صدیوں کا سفر
خامشی یہ دکھ بھلا جھیلے گی کیا
فضا ابن فیضی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پلکوں پر اپنی کون مجھے اب سجائے گا
میں ہوں وہ رنگ جو ترے پیکر سے کٹ گیا
فضا ابن فیضی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شخصیت کا یہ توازن تیرا حصہ ہے فضاؔ
جتنی سادہ ہے طبیعت اتنا ہی تیکھا ہنر
فضا ابن فیضی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تلاش معنی مقصود اتنی سہل نہ تھی
میں لفظ لفظ اترتا گیا بہت گہرا
فضا ابن فیضی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

