نہ ملے وہ تو تلاش اس کی بھی رہتی ہے مجھے
ہاتھ آنے پہ جسے چھوڑ دیا جاتا ہے
شہزاد احمد
نہ سہی جسم مگر خاک تو اڑتی پھرتی
کاش جلتے نہ کبھی بال و پر پروانہ
شہزاد احمد
نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے
وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے
شہزاد احمد
نقش حیرت بن گئی دنیا ستاروں کی طرح
سب کی سب آنکھیں کھلی ہیں جاگتا کوئی نہیں
شہزاد احمد
نیند آئے تو اچانک تری آہٹ سن لوں
جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے
شہزاد احمد
نیند آتی ہے اگر جلتی ہوئی آنکھوں میں
کوئی دیوانے کی زنجیر ہلا دیتا ہے
شہزاد احمد
پاس رہ کر بھی نہ پہچان سکا تو مجھ کو
دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے
شہزاد احمد
پیکر گل آسمانوں کے لیے بیتاب ہے
خاک کہتی ہے کہ مجھ سا دوسرا کوئی نہیں
شہزاد احمد
پیرہن چست ہوا سست کھڑی دیواریں
اسے چاہوں اسے روکوں کہ جدا ہو جاؤں
شہزاد احمد

