EN हिंदी
شہزاد احمد شیاری | شیح شیری

شہزاد احمد شیر

192 شیر

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب
یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

شہزاد احمد




حسن بازار کی زینت ہے مگر ہے تو سہی
گھر سے نکلا ہوں تو اس چوک سے بھی ہو آؤں

شہزاد احمد




حضور حسن یہ دل کاسۂ گدائی ہے
ہوں وہ فقیر جسے بھیک بھی نہ دے کوئی

شہزاد احمد




اک آگ پھر بھڑک اٹھی ہے دیدہ و دل میں
کچھ اشک پھر سر مژگاں دکھائی دیتے ہیں

شہزاد احمد




اس آس پہ سیلاب کے سینے پہ رواں ہوں
شاید کبھی دریا کا کنارا نظر آئے

شہزاد احمد




اس قدر تیز نہ چل سانس اکھڑ جائے گا
طے نہ کر راہ طلب ایک ہی رفتار سے تو

شہزاد احمد




اس راہ سے گزرے تھے کبھی اہل نظر بھی
اس خاک کو چہرے پہ ملو آنکھ میں ڈالو

شہزاد احمد




جب چل پڑے تو برق کی رفتار سے چلے
بیٹھے رہے تو پاؤں کی زنجیر ہو گئے

شہزاد احمد




جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا
تب اس کو پہلی ملاقات کا خیال آیا

شہزاد احمد