ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب
یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا
شہزاد احمد
حسن بازار کی زینت ہے مگر ہے تو سہی
گھر سے نکلا ہوں تو اس چوک سے بھی ہو آؤں
شہزاد احمد
حضور حسن یہ دل کاسۂ گدائی ہے
ہوں وہ فقیر جسے بھیک بھی نہ دے کوئی
شہزاد احمد
اک آگ پھر بھڑک اٹھی ہے دیدہ و دل میں
کچھ اشک پھر سر مژگاں دکھائی دیتے ہیں
شہزاد احمد
اس آس پہ سیلاب کے سینے پہ رواں ہوں
شاید کبھی دریا کا کنارا نظر آئے
شہزاد احمد
اس قدر تیز نہ چل سانس اکھڑ جائے گا
طے نہ کر راہ طلب ایک ہی رفتار سے تو
شہزاد احمد
اس راہ سے گزرے تھے کبھی اہل نظر بھی
اس خاک کو چہرے پہ ملو آنکھ میں ڈالو
شہزاد احمد
جب چل پڑے تو برق کی رفتار سے چلے
بیٹھے رہے تو پاؤں کی زنجیر ہو گئے
شہزاد احمد
جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا
تب اس کو پہلی ملاقات کا خیال آیا
شہزاد احمد

