جہاں میں ہم نے کسی سے بھی کھل کے بات نہ کی
دیار غیر تھا دامن بچا بچا کے چلے
شہزاد احمد
جہاں میں منزل مقصود ڈھونڈنے والے
یہ کائنات کی تصویر ہی خیالی ہے
شہزاد احمد
جیسے منہ بند کلی رات کے ویرانے میں
سانس لینا مجھے دشوار ہوا جاتا ہے
شہزاد احمد
جلتے ہیں اک چراغ کی لو سے کئی چراغ
دنیا ترے خیال سے روشن ہوئی تو ہے
شہزاد احمد
جواز کوئی اگر میری بندگی کا نہیں
میں پوچھتا ہوں تجھے کیا ملا خدا ہو کر
شہزاد احمد
جھوٹی باتیں رہنے دو
کون کسی کو یاد آیا
شہزاد احمد
جس کے باعث ابھی ٹھنڈک ہے مرے سینے میں
بھڑک اٹھتا ہوں اگر نام لیا جاتا ہے
شہزاد احمد
جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں
اور جسے جان چکے ہو وہ خدا کیسے ہو
the one we do not know, how can we God decree
and the one we do know, then God how can he be
شہزاد احمد
جس سے دو روز بھی کھل کر نہ ملاقات ہوئی
مدتوں بعد ملے بھی تو گلا کیسے ہو
شہزاد احمد

